32واں سالانہ روحانی اجتماع 2026 کی جھلکیاں

32واں سالانہ روحانی اجتماع 2026 — تلاوتِ قرآن، نعتِ رسول ﷺ، علمائے کرام کے خطابات اور روحانی فیوض و برکات

الحمدللہ! جامعہ انوار مدینہ قاسمیہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے 32ویں سالانہ روحانی اجتماع 2026 میں قرآنِ کریم کی تلاوت، بارگاہِ رسالت ﷺ میں نذرانۂ عقیدت، علمائے کرام کے اصلاحی و روحانی خطابات اور دینی خدمات کے اعتراف پر مشتمل مختلف بابرکت سرگرمیاں منعقد ہوئیں۔ اس اجتماع میں عاشقانِ رسول ﷺ نے بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ شرکت کی اور روحانی و علمی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے۔

طلبہ کی تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

اجتماع کے دوران جامعہ انوار مدینہ کے طلبہ نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے نذرانے پیش کیے۔ ان روح پرور پیشکشوں نے محفل کے ماحول کو مزید پُرنور بنایا اور حاضرین کے دلوں میں محبتِ قرآن اور عشقِ رسول ﷺ کے جذبات کو تازہ کیا۔

علمائے کرام کے اصلاحی و روحانی خطابات

اجتماع میں جلیل القدر علمائے کرام اور مشائخِ عظام نے اپنے خطابات کے ذریعے شرکاء کی دینی و روحانی رہنمائی فرمائی۔ ان خطابات میں دینِ اسلام کی تعلیمات، اصلاحِ احوال، روحانی تربیت اور محبتِ رسول ﷺ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ شرکاء نے علمائے کرام کے بیانات سے استفادہ کیا اور دینی تعلیمات پر عمل کرنے کے عزم کی تجدید کی۔

نصف صدی سے زائد تدریسِ قرآن و حدیث کی خدمات کا اعتراف

اس بابرکت اجتماع کے موقع پر قائدِ محترم، پیرِ طریقت رہبرِ شریعت الحاج پیر صوفی محمد شوکت علی قادری دامت برکاتہم العالیہ کی جانب سے شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی عبدالعلیم سیالوی دامت برکاتہم العالیہ اور حضرت علامہ مفتی محمد صدیق ہزاروی دامت برکاتہم العالیہ کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔

یہ اعزاز دونوں جلیل القدر علمائے کرام کی نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط تدریسِ قرآن و حدیث اور علومِ دینیہ کی ترویج و اشاعت کے لیے انجام دی جانے والی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ ان کی علمی و تدریسی کاوشیں دینی تعلیم کے فروغ اور طلبہ کی علمی و روحانی تربیت کے حوالے سے قابلِ قدر سرمایہ ہیں۔ اس موقع پر اہلِ علم کے احترام اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی خوبصورت روایت کو اجاگر کیا گیا۔

شرکاء کے لیے خصوصی انتظامات

اجتماع میں شرکت کے لیے آنے والے عاشقانِ رسول ﷺ کی سہولت کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف انتظامات کیے گئے۔ شرکاء کی سیکیورٹی، نظم و ضبط، کھانے پینے اور دیگر ضروری سہولیات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ حاضرین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے فری میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا۔ ان انتظامات کا مقصد شرکاء کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور اجتماع کو منظم انداز میں منعقد کرنا تھا۔

جامعہ انوار مدینہ کے کارکنان اور ذمہ داران نے باہمی تعاون، محنت اور خلوص کے ساتھ مختلف انتظامی امور انجام دیے، تاکہ اجتماع میں شریک افراد یکسوئی کے ساتھ روحانی و دینی پروگراموں سے مستفید ہو سکیں۔

اختتامی دعا اور قصیدہ بردہ شریف

اجتماع کے اختتام پر پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت جناب الحاج صوفی محمد شوکت علی قادری دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت رقت آمیز دعا فرمائی۔ اس پُرکیف روحانی لمحے میں شرکاء نے نہایت عقیدت و خشوع کے ساتھ دعا میں شرکت کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی حاجات، امتِ مسلمہ کی سلامتی، دینِ اسلام کی سربلندی اور ملک و قوم کی خیر و عافیت کے لیے دعائیں کیں۔

دعا کے بعد تمام شرکاء نے مل کر بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں قصیدہ بردہ شریف پیش کیا۔ اس اجتماعی نذرانۂ عقیدت نے اجتماع کے اختتام کو مزید روح پرور اور یادگار بنا دیا، اور حاضرین محبتِ رسول ﷺ کے جذبات سے سرشار ہو کر رخصت ہوئے۔

دعا

اللہ تعالیٰ اس بابرکت اجتماع کی تمام دینی و روحانی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، علمائے کرام کے علم و فیض میں برکت عطا فرمائے، جامعہ انوار مدینہ قاسمیہ کو دینِ اسلام کی خدمت میں مزید ترقی عطا فرمائے اور تمام منتظمین، کارکنان اور شرکاء کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

منجانب: جامعہ انوار مدینہ قاسمیہ