8.00 - 18.00 ادارہ کے اوقات کار: پیر سے ہفتہ

انٹرویوصوفی محمد شوکت علی قادری

وہ چاہےتو ریگزیر میں گلاب کھلادے

وہ چاہےتو زمین کو آسمان بنا دے


صوفی محمد شوکت علی قادری میں تحمل بردباری حوصلہ اور بے بایاں ضبط پا یا جاتا ہے۔مخالف کچھ بھی کہے ہمت یے برداشت کی ہے۔ استقلالی وجودہے۔ جمالی کیفیت میں کاۃنات کے سرورﷺ کا یہ غلام یہ سفیر دین کی چٹان کیطرح ڈٹا کھڑا نظر آتاہے۔ محبت شفقت رقت نرم خوئی کا سفر صوفی محمد شوکت علی قادری جب مغلپورہ کے رہنے والے ایک عام بندہ نےحق کا مہفوم پا یا تو اس اطوار بدلےقرینے تبدیل ہوے۔ نشت و بر خا ست چال ڈھال قول و فعل گفتار کردار سب بدل گئے ٹیکنیکل ہینڈڈ ہے۔متری جب انجینئر ریلوے ملازم ارے کہاں کی روحانیت؟ کہاں کی ولایت یہ تو سیدھا سادھا بندہ ہے لیکن گزرے کل کا مستری تصوف روحانیت کےبولٹ کسنے لگا واہ سبحان اللہ ایسی آوازیں تھیں۔ جوان کی شخصیت کے بارے میں کہی جا رہی تھیں۔ اور وہ جس نے برائی کے لفظوں ھرفوں کیلئے بند کر لئے تھے اور صدائے حق کہنے سننے کی راہ پنائی تھی۔ اسے احساس تھا میں بندہ حق میں ہوں۔ میری ذماداریاں ادائی بندگی کے ضمن میں کیا ہیں؟ لڑکپن سے ہی احساسات اس کے ادراک رکھتے تھے کہ علائق دنیاوی الرکیب الراکب کا مقام کیا ہے۔ حقیقی شاہسواروں کو کنوتیاں بھر تے سر کش گھوڑے ہی ژیادہ پسند آتے ہیں اسے احساس تھا اگر ابوجہل کی زندگی گزارو گے تو حمزہ جیسی شہادت کی آرزو نہں کی جا سکتی۔ اس نے سنا ہی نہں بزرگوں سے عملی مشاہدہ کیا تھا کہ فرعون کی زندگی گزار کر موسی کی شان نہں مان سکتے۔ اس نے خلق خدا کی خدمت مفہوم بندگی پا لی۔ شریت کے دھارے میں طریقت کے کنارے بٹھ کر بدنی کثافتیں دھونا اور روحانی چشموں سے سیرابی عام بات نہں ہےمگر اب وہ عام نیں رہا تھا۔ خامیوں کے سامنے زانوے تلمند طے کر نے والے عام کب رہتے ہیں۔

اور پھر وہ جو قادری ہوئے جنہیں مرشد کی نادری ضرب حا صل ہوئی۔ بتوں کو گرانے والی حرص وہوس کے پہاڑ کو گرانے والی مر حب کے قلعہ کہ مسمارکرنے والی قادری ضرب فاران پہاڑوں سے جیلان کی گالیاں بظاہر نظر تو نہیں آتیں مگر باطنی آنکھ دیکھتی ہے اور صاف دیکھتی ہۓ کہ وہی نور وہی صدا جو کائنات کی عظیم ترین ہستی نے عرش سے فرش فرش سے پا تال تک سنائی تھی اس کی سائید کرنے والے یسی میغام کہ پھیلانے والے جیلان کے جیلانی کہ قادری کو قادر مطلق نے قادری سطوت عطا کی اور سلسلہ قادری کی شان و شوکت کا جز و قلیل شوکت علی قارری کو بھی میسر ہے اور خلق خدا فیض یاب ہو رہی ہے شوکت علی قادری کی ابتدائی زندگی سے اب تک کا جائزہ جو کچھ سامنے لاتا ہے اسے حیران کن ضرور کہا جا سکتا ہے۔ مگر نظر و خبر سے فیض پانے والوں کی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں اسی طرح آتی ہیں۔ نظر اٹھتی ہے مر شد کی اور زاغ و زغن کے درمیاں شہباز چن لیا جاتا ہے مرشد کی نگاہ نے انہیں چنا فطری سونا تھے نگاہ نے سنوارا ابھارا کندان بن گئے مس خام کو کندن بنانے والوں کی عنایت اور درست شفقت ایسے ہی حیران کن کردار ادا کرتی ہے۔

صوفی محمد شوکت علی قادری جب ٹیکنیکل کو رسز کر رہے تھے تو فطرت دیکھ کر مسکرارہی تھی کہ انجینئر بننے کی خواہش میں مست الست ہے تو تجھ سے کام کچھ اور لیا جائے گا۔ تجھے دیکھ کر خدا یاد آجا گا۔ انسانوں کی روح کے کل پرزوں کے مستری مشینوں کی مرمت کا نقیب بنتا یے تو آجا۔ اس وادی میں جہاں امن عافیت جزبہ عشق کی فراوانی ہے۔ جہاں سچ اگلتا ہے اور سچائی کے پھول کھلتے ہیں۔عام دنیا سے ہٹ کر یہ وادی یہ دنیا یور ہے۔


کرگس کا جہاں اور شاہیں کا جہاں اور


ایسا کبھی نہیں ہوستکا ہے فرعونیت سے زندگی گزار کر موسی کے مقام کی خواہش کی جاہے۔ ابوجہل کی اکڑفوں سے حیات بسر کر کے حمزہ کی شہادت کی تمنا کرتے ہو؟

صوفی محمد شوکت علی قادری سے ملاقات ہوئی سادگی کے ساتھ داستان حیات کے اوراق کھلتے گئے۔ روحانیت کے منصب پر فائز ہونے والے کی داستان میں جدا گانہ کیفیت کے باوجود ندرت بیان الوحی ہوتی ہے۔وعاجزی و انکسار کا لہجہ بولتا ہے خاکساری کی خاک ان کی عظمت کو سلامتی دیتی ہے۔ فرمایا انہوں نے میں خاک پاہوں ان کی کائنات کے جو سرورﷺ ٹھہرے۔ مرشد کامل سے 1983ء میں بعیت کا شرف حاصل کیا اور وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔

میں شوکت کا نام تھا صوفی محمد شوکت علی قادری کے قلب میں ڈھل گیآ میں نے قرآن مجید کی ناظرہ ترجمہ و تفسیر کی تعلعم اسی مامعہ سے استاد گرامئ قاری محمد بشیر مد ظلہ سے حاصل کی یہ چھوٹی سی مسجد تھی جہاں پڑھا۔ سب انجینئر کے برابر پاک جرمن ڈپلومہ حاصل کیا۔16سال قبل ریلوے سروس میں آئے۔ تعلیم و تدریس کا شغل شروع سے یی ہےـ

میرے ایک بزرگ محمود اختر صاحب ملتان سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے مجھے روحانی راہ کھائی اور جب میں نے 1983ء میں پیر حیدر شاہ سرکار کا قادری کا دامن پاک پکڑا تو میری دنیا بدل گئی۔ سرور کائنات شفع فحشر رحمت العالیں خاتم النبین افضل الانیاء محبوب خدا وجہ تخلیق کا ئنات حضرت محمدﷺ کی ذیت گرامی سے بچپن سے لگاوُ رہا ہےـ اربوں درودپاک ان کی ہستی پر لان کے طفیل ملا ہے – ان سے عشق ہے جنون ہے اور کائنات کی سب سے عظیم ہستی نے ہی مجھے صوفی محمد شوکت علی قادری بنا یا ہےـ گزشتہ 20 سال میں مسجدنبوی میں کئی مرتبہ اعتکاف میں بیٹھا ہوں۔ اگر کبھی اعکتاف مس بھی ہوا تو کبھی حاضری سے محروم نہیں رہا۔ میں یہ کرم مالک کا ہے کہ دو تین دفعہ سال میں حاضری کی سعادت حاصل ہوتی ہےـ


محترم قادری سلسلہ کی خلافت کا شرف کب حاصل کیا؟

آپ نے فرمایا مجھے 1996ء میں خلافت ملی سالانہ اجتماع ہر سال ستمبر یا اکتوبر میں کرواتے ہیں ـ مریدین کا سلسلہ خلافت کے حصول کے بعد شروع ہواـ ہزاروں کی تعداد میں مریدین پر پرواز بنے ہوئے ہیں ـ


فیض یابی کے حصول کیلیئے آیے کے بارے میں کیا فرما ئیں گے آپ؟

قادری صاحب نے فرمایا 150 سے 2 صد تک افراد کی روانہ آمد ہوتی ہے 18 سال سے یہ سلسلہ جاری یےـ سرورکائنات رحمت العالمین کے صدقے یہ شفا جا ری ساری ہےـ


سنا ہے کپڑا دیکھ کرمرض مریض اور کوائف سب کچھ آپ پر منکشف ہو جاتا ہےـ

فرمایا برادر یہ عطیہ ہے عمل روحانی حضرت میاں میر بھی کپڑا دیکھ کے مریض سائل کے دکھ سے آگا ہی پاتے تھے اورشفا مریض کا مقدر بنتی تھی ـ متعلقہ فرد کے کاغز قلم سے بھی آگاہی ملتی ہے ـ کیفیت سامنے آتی یے ـ میں عورتوں سے ملاقات نہیں کرتا۔ ان کا متعلقہ کپڑا کاغز پر ان کی لکھائی وغیرہ سے ہی آگاہی ہو جاتی ہےـ

کلام الہی کی مختلف سورتیں آیات پڑھنے سے شفاملتی ہے۔ نیک عمل کیا جاتا ہے۔ نقش قرآن آیات بھی دیئے جاتے ہیں۔ کوئی ہدیہ نہیں فی سبیل اللہ یہ سارا سلسلہ جاری ہےـ


تو پھر روزی کا کیا سلسلہ ہے؟

فرمایا فی پبلشرز کے نام بزنس ہے اردوبازار میں دکان ہےـ نصاب اول سے پانچویں تک انگلش میڈیم اور اردو میڈیم دونوں کیلئے کتب فراہم کی جاتی ہیں۔ وہاں سے گھر کا اخراجات چلتے ہیں۔ اس کے علاوہ میرا پراپرٹی کا کاروبار بھی ہے۔


بیرونی ممالک کے دورے کسے کرتے ہیں اور اخراجات کہاں سے فراہم ہوتے ہیں؟

فرمایا سرکار مدینہﷺ کے دیس سعودی عرب میں جب سے ریا یوں اپنےہی خرچ سے جارہا ہوں۔ سعودی عرب میں بھی انوار مدینہ کی برانچز قائم ہیں۔ کینیڈا انگلینڈ اور دوبئی وغیرہ میں مریدین کے بلاوے ان کی دعوت میں جاتا ہوں۔ کراچی میں ہر مہینہ کے آخری ہفتہ میں جاتا ہوں سنی ہائیٹس کے تیسرے فلور پر بیٹھتا ہوں۔ اخراجات کراچی کے لوگ یی برداشت کرتے ہیں۔ پاکستان کے دوسرے شہر سیالکوٹ گجرات ساہیوال ملتان اور چڑھوئی کے علاوہ مری میں بھی مراکز انوار مدینہ قائم ہیں۔ دینی اور دنیاوی تعلیم فی سبیل اللہ بلا معاوضہ دی جاتی ہے۔


آپ کا تدریسی نیٹ ورک تو خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ لاہور میں اس کا دائرہ کار کیا ہے؟

جناب شوکت علی قادری نے فرمایا دریں وقت صرف لاہور میں ہی آٹھ مدرسے انوارمدینہ کے تحت کام کر کرہے ہیں۔ ان مدرسوں میں حفظ کا بھی اہتمام ہے اور ساتھ دنیاوی تعلیم میٹرک تک کا بھی سلسلہ شروع ہے۔ بچوں کیلئے کمپیوٹر ٹریننگ سسٹم بھی شروع کیا گیا ہے۔ تدریسی سلسلہ کچھ اس طرح مربوط رنگ میں چل رہا ہے کہ مرکز میں درس نظامی کا اہتمام ہے اور باقی طلبات کے لیے حفظ و تجوید درس نظامی کا سلسلہ جاری ہے بچیوں کیلئے مرکز انوار مدینہ، گرین ٹاوُن اور عالیہ ٹائون میں تعلیم دی جاتی ہے اور سلائی کڑھائی سکھائی جاتی ہے۔


اسی طرح طلبا و طالبات کی کثیر تعداد ہو گی جو آپ کے اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے؟

محمد شوکت علی قادری نے فرمایا 1200 طلباءو طالبات لاہور میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اس کے علاوہ ہفتہ وار یجتماع می 800/700 افراد مرد اور اتنی ہی عورتوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ محفل نعت کا اہتمام 18 سال سے جاری و ساری ہے۔ ہفتہ وار پروگرام میں تلاوت اور نعت اصلا حی پروگرام اور آخر میں ذکر کی محفل سجتی ہے۔ نماز عشاء بھی اسی دوران پڑھائی جاتی ہے۔ محفل نعت میں علماء کرام کی تقاریر بھی ہوتی ہیں۔ سالانہ سطح پر بڑا پروگرام ہوتا ہے۔ گفریفن گراونڈ میں ہوتا ہے جس میں لاکھوں خواتین و حضرات شرکت کرتے ہیں۔


شنید ہے کہ آپ کے ہاں بچیوں کی اجتماع شادیوں کا اہتمام بھی ہوتا ہے؟

سایسا کیا جاتا ہے مقصد اس میں یہی ہے کہ امراء گھروں نے روپیہ نکال کر غرہب کو فیض پہنچایا جائے۔ اس سلسلہ میں مریدین مخیر حضرات کا تعاون حاصل ہے۔ مجحھے اس سلسلہ میں قائم کردہ کمیٹی کا چیئرمیں چنا گیا ہے۔ کمیٹی 8 افراد پر مشتمل ہے ملکر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ فی بچی ایک سے سوا لاکھ تک کی مالیت کا جہیز دیا جاتا ہے۔

گزشتہ سال 70 بجیوں کی شادی کے لیے قرعہ اندازی کی گئی تھیْ۔ بچیوں کو جہیز دینے کا اہتمام بھی قرعہ اندازی سے ہوتا ہے۔ اب لاہور کو مختلف حصوں میں تقسم کر دیا ہے۔ متمنی جہیز بجیوں کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی منگوائی جاتی ہے۔ کے ذریعے بچیاں چن لی جاتی ہیں اور سب کچھ رضا الہی کے حصول کے لیے ہے۔ یہ اس کا کرم ہے کہ ہمیں یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کا تعاون ہمارے شامل حال ہے جو توشہ آخرت سمیت رہے ہیں۔ زار راہ بنالیتے ہیں۔ دوسروں کیلئے جینے کا سلیقہ قرینہ سیکھ رہے ہیں۔ مالک ان پر راضی ہو اور انکے ایثار قبول فرمائے۔


قادری صاحب پیر کیسا ہونا چاہیے؟

حق گو کے اس سوال کے جواب میں صوفی محمد شوکت علی قادری نے فرمایا یہ سوال کردیا یے آپ نے۔ محترم پیر پابند شریعت ہو پانچ وقت کا نمازی ہو۔ لباس چہرہ سنت کے مطابق ہو مقصد رضائے سرور کائنات ہو۔ بس سمجھ بیٹھے ولی کامل وہی ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آ جائے جو تارک سنت ہے وہ پیر کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ لوگوں کے نزرانوں پر نہیں بلکہ اپنی محنت کی کمائی یعنی ہاتھ سے کماتا ہو۔


بعض پیر عورتوں سے پاؤں دبواتے ہیں؟

قادری صاحب نے کہا عورتوں سے پاؤں دبوانا تو دوری کی بات ہے شرعی لحاظ سے غیر محرم عورتوں سے ملنا بھی منع ہے –

انہوں نے کہا کوئی شاگرد کوئی خلیفہ مقرر نہیں ہے۔ بس اللہ کا عاجز بندہ اور حضورﷺ کائنات کا پرستار ہوں۔ ٹوکن کے ذریعے ملنے میں یہی حکمت ہے کہ میرے لئے ہر مریض برابر حیثیت رکھتا ہے۔ میں سب کا خدمت گزار ہوں۔ مجھ پر خدائی عنایت ہے رسولﷺ کے غلام کے پاس پر امتی کا حق ہے۔ چوبیس گھنٹے حاضر ہوں بس نظم و نسق کے لئے یہ ٹوکن سسٹم ہے ورنہ میں کوئی دنیاوی بادشاہ نہیں یوں۔ میں تو سرکارﷺ کا امت کا خادم ہوں انہی کے طفیل شفاء ملی ہے جو میں تقسیم کر رہا ہوں تو وہی جو مسیحا عالم ہیں۔ وہی تو رحمت العالمین ہیں۔ انہی کی رحمت کے سہارے مسلمان جی رہے ہیں۔


حضرت جی یہ نجومی یہ دنیادار پیر اخبارات میں حالات بتانے تقریر بدلنے کے دعوے اور انعامی کا اعلان کرتے ہیں- ان کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟

فرمایا دراصل ایمان کی کمزوری توہمات کو جنم دیتی ہے اور توہمات کی صورت میں یہ شعبدہ باز عوام کہ لوٹتے ہیں- اور ضعیف لوگ لٹ جاتے ہیں اشتہاری پیر اور عامل صاحبان مرشد مرشد زادے پیرزادے کام نہ ہونے کی صورت میں سات لاکھ روپے تانقد حرجانہ ادا کرنے کے دعوے کرتے ہیں- ہر اخبارات میں یہ دعویٰ جات چھپتے ہیں- اور کمزور ایمان کے افراد ضعیف الاعتقاد عورتیں مردان دعویٰ جات اور اخباری تشہیری مہم سے متعاثر ہو کر ان پیروں عاملوں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں جو ان سے ہزاروں روپے بٹور کر اپینی شان و شوکت اور امارت کی شان بنائے بیٹھے ہیں- میں ان جھوٹے پیروں اور عاملوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر وہ سچےہیں تو سربراہان مملکت قاتلانہ حملہ ہوتے ہیں اس کے ملزموں مجرموں کے نام بتائیں اور ایک کروڑ روپے کا انعام حاصل کریں۔ اس کے لئے کو شش کیوں نہیں کر رہے؟ جبکہ ان کے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں ہے- دشمنوں کو ملیامیٹ کر سکتے ہیں- دشمن کا سر جھکا سکتے ہیں- محبوب کو مطلوب کے قدموں میں جھکانے کے دعوے کے دعویدار ہیں- ہر بگڑی کو سنوارتے ہیں- ہر ناکام کو کامیاب بناتے ہیں- تو حملہ کے ذمہ داروں کی بے نقاب کشائی کرکے ایک کروڑ روپے کا انعام حاصل کیوں نہیں کرسکتے-


آپ کی تبلیغ سے غیر مسملوں پر کوئی اثر ہوا؟

فرمایا الحمد اللہ حضورﷺ کے صدقے غیر مسلم بھی ادھر آتے ہیں- بندہ خادم خاکپائے رسولﷺ کے ڈیرہ پر الحمد اللہ صد بار شکر کہ 15 عیسائی اور ایک قادیانی میرے ہاتھ پرمسلمان ہو چکے ہیں-


نئی نسل کے نام کوئی پیغام دیں گے؟

قادری صاحب نے فرمایا دوستو عزیز و راہ ادب اختیار کرو عاجز و انکساری سے جینا سیکھو غصہ پی جانے کی عادت اپناؤ والدین کی خدمت کرو اور کبھی انکے سامنے آواز بلند نہ کرو- حکم ان کا امر الہی سمجھ کر عمل کرو میں خود بھی اپنے باپ کے قدم دبا کر سوتا ہوں- جمعہ و اتوار کو جب بیان کیلے جاتا ہوں تو پہلے والد محترم والد محترم کے قدم دباتا ہوں-