تعارف حضرت علی ھجویری معروف داتا گنج بخش لاھوریؒ

Category دیگر بیانات
Byانوار مدینہ

امام الاولیا سلطان الاصفیا شیخ علی ھجویری معروف داتا گنج بخش لاھوریؒ اس قدسی گروہ کے سرخیل ہیں۔  رسل ہادی سبل حضرت محمدﷺ کی کمالِ محبت و متابعت سے ولایت کے ارفع و اعلیٰ مقام اور بلند مراتب پر  فائز ہو کر خلافت الہيٰہ اور حضرت سیدالانبیاءﷺ کی نیابتِ کبریٰ کے منصب جلیلہ پر متمکن ہوتے  ہیں۔  اور چونکہ انہوں نے اپنے آپ کو محبوبِ خدا کی محبت میں فنا کر دیا ہوتا ہے۔ انہیں بھی مقامِ محبوبیت حاصل ہو جاتا ہے۔ اور زمین پر خلیفتہ ﷲ اور مظہر انوارِ خدا اور نائب محبوبِ خدا ہوتے ہیں۔ لہٰزا ان کی ظاہری زندگی میں بے پناہ فیض رشد و ہدایت جاری ہوتا ہے۔

برزخی زندگی مین قاسم فیوض و برکات ہوتے ہیں اور ان کا روحانی فیض عوام و خواص کیلئے یکسا ہوتا ہے۔              

اُن کی تعلیمات و ارشادات طالبان راہ خدا کے لیے مرشدِ طریق کی حیثیت رکھتے ہیں اور مرتبہ واستعداد کے لوگ اپنی اپنی حیثیت اور ظرف کے مطابق ان سے مستفید و مستفیض ہوتے ہیں۔ بہ چناچہ بہ عطائے الٰہی و بہ فیض سرور عالمﷺ حضرت داتا گنج بخشؒ نے اپنی حیات میں کفرستان ہند میں اسلام کا پرچم  لہرایا اور اپنی روحانی قوت اور نظرِ کیمیا اثر کے ذریعہ بے شمار گشتگانِ بادیہ کفر و ضلالت پر گامزن کیا اور ان کے سینوں کو نورِ اسلام سے منور فرمایا۔

بعد وصال حضرت شیخ کا مزار پُر انوار فیض رسانِ منبع اور روحانیت و طانیت ہے۔ آپ کے ارشادات مرشد کامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غرض کہ ایسی محبوبیت و مقبولیت امتِ محمدیہﷺ کے بہت کم اولیاء کرام کو حاصل ہوئی۔ 

این سعادت بزور بازو نیس

تانہ بخشد خدائے بخشندہ

یہ سعادت قوت بازو سے حاصل نہیں ہوتی جب تک ﷲ عطاء فرمانے والا عطاء نہ فرمائے۔

حضرت داتا گنج بخشؒ کے بعد جتنے عظیم المرتبت صوفیاء           یہاں آئے مثلًاخواجہ معین الدین چشتیؒ, حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ, حضرت میاں میرؒ, شیخ محمد شرقپوریؒ اور بعض دیگر بزرگ حضرات نے بھی پہلے حضرت داتا حضور کے مزار پر حاضری دی۔ یہاں سے روحانی فیض حاصل کیا اور پھر آگے بڑھے۔ 

آپ کے بارے میں یہ مشہور شعر جو ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے طرف منسوب ہے۔ حضرت داتا صاحب سے فیض پانے کے بعد انہوں نے اس شعر کے ذریعے اپنی سپاس گزاری کا 

اظہار کیا تھا۔  

 

گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا

ناقصاں دا پیر کامل کملاں دا رہنما

مولانا جلالدین رومیؒ کے مزار مبارک کے باہر مندرج ذیل شعر رقم ہے۔ 

کعبہ عشاق باشد این مقام 

پر کہ ایں جاخام آمد شد تمام

یہ مقام عاشقان الہٰی کے لیے کعبہ کی مانند ہے۔ جو یہاں نا ۔مکمل آتا ہے وہ مکمل ہو کر جاتا ہے

۔ ولا دت با سعادت  

حضرت داتا گنج بخشؒ کی ولادت ۴۰۰ه یا ۴۰۱ه کو ہوئی۔

وطن: آپ خود فرماتے ہیں علی بن عثمان بن علی الجلّابی

الغزنوی ثم ہجویری دارا شکوہ لکھتا ہے۔ حضرت غزنوی کے

رہنے والے تھے۔جلّاب اور ہجویری غزنی) افغانستان (کے محلوں میں سے دو محلے ہیں۔ پہلے جلّاب میں قیام پزیر تھے۔ پھر ہجویری منتقل ہوگئے۔ آپ کے والد ماجد کی قبر غزنی میں ہے۔

حنفی المذھب: حضرت داتا صاحبؒ حنفی المذھب سیدنا امام اعظم ابو حنیفہؒ سے خاص   

عقیدت رکھتے تھے۔اور ان کے مقلد تھے۔

 

 

لاھور آمد: تذکرہ نگاروں کے مطابق آپ لاھور ۴۳۱ه یا ۴۵۱

میں تشریف لائے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ ۴۶۰ه میں واردِ لاہور ہوئے۔ 

وصال: تذکرہ نگاروں کے مطابق آپؒ کا وصال شریف ۴۶۵ میں ہوا۔ 

معمولات: حضرت داتا علی ہجویریؒ دن میں تدریس فرماتے اور رات کے وقت حق کے متلاشیوں کو تلقین فرماتے۔ جس کی بدولت ہزاروں بے علم عالم بنے اور ہزاروں کفّار مسلمان ہوئے اور بے شمار گمراہ راہِ راست پر آئے اور ہزاروں ناقص کامل ہوئے۔

حضرت داتا گنج بخشؒ فرماتے ہیں: ن

نفس کی عادت ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے راحت پاتا ہے۔ اور جس قسم کے لوگوں کی محبت اختیار کی جائے وہ انہیں کی خصلتیں و عادات اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں تک کہ باز) ایک پرندہ (آدمی کی صحبت میں رہ کر مانوس ہو جاتا ہے۔ طوطی آدمی کے سکھانے سے بولنے لگتی ہے۔گھوڑا لپنی خصلت

ترک کر کے مطیع بن جاتا ہے۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ صحبت کا کتنا اثر و غلبہ ہوتا ہے۔ اور یہ کس طرح عادتوں کو بدل دیتی ہے۔ یہی حال تمام صحبتوں کا ہے۔

  

 

 

اپنی رائے دیں :

نام:
ای میل:
ملک:
رائے:

Send Feedback

Tell us what you think!

Your opinions and comments are very important to us and we read every message that we receive. Due to a high volume of messages, we're not always able to provide a personal response, but we do appreciate your taking the time to fill out our feedback form below.

Message type: Comment    Complaint    Request
*Your Name:
*Your Email:
*Feedback: